fif 88

امریکی ایما پرفلاح انسانیت فاونڈیشن کیخلاف کریک ڈاؤن شروع

اقوام متحدہ کے تحت دہشت گرد قرار دی گئی تنظیمیں پاکستان میں بھی کالعدم قرار
غیر قانونی طریقے سے چندہ جمع کرنے وای تنظیموں سے متعلق معلومات انٹیلیجنس نیٹ ورک کے ذریعے حاصل کی جائیں گیاقوم متحدہ کی جانب سے کالعدم قراد دی گئی تنظیموں پر پاکستان میں پابندی کے اعلان کے بعد حکومت نے فلاحِ انسانیت فاؤنڈیشن کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے۔وزیرِ مملکت برائے خزانہ رانا افضل نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ فلاحِ انسانیت فاؤنڈیشن کی سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔پاکستان کی جانب سے شدت پسند تنظیموں کے خلاف کارروائی ایک ایسے موقع پر سامنے آئی ہے، جب آئندہ ہفتے پیرس میں ہونے والے فائننشل ایکشن ٹاسک فورس ( ایف اے ٹی ایف) کے اجلاس میں پاکستان کو واچ لسٹ میں ڈالنے کے لیے تحریک پیش کی جا رہی ہے۔
ایف اے ٹی ایف کی جانب سے پاکستان کو خبردار کیا گیا تھا کہ عسکریت پسندوں کی مالی معاونت کے خلاف کارروائی نہ کرنے پر پاکستان کو دوبارہ واچ لسٹ میں شامل کیا جا سکتا ہے۔رانا افضل نے بتایا کہ پاکستان نے دہشت گردی کی مالی معاونت روکنے کے بہت سے اقدامات کیے ہیں اور اس حوالے سے بین الاقوامی فائنشل ایکشن ٹاسک فورس کی شقوں پر عمل درآمد کو یقینی بنایا ہے۔انھوں نے کہا کہ اب کچھ ممالک اس سلسلے میں پاکستان پر مزید دباؤ ڈال رہے ہیں اور پاکستان نہیں چاہتا کہ اُسے واچ لسٹ میں ڈالا جائے۔اس سے قبل اتوار کو حکومت نے صدارتی حکم نامے کے ذریعے اقوام متحدہ کی جانب سے کالعدم قرار دی گئی تنظیموں کو پاکستان میں بھی کالعدم قرار دیا تھا۔جس کے بعد اقوام متحدہ کی فہرست میں شامل بارہ تنظیموں کے خلاف پاکستان میں بھی کارروائی کی جا رہی ہے۔وزیر مملکت برائے خزانہ رانا افضل کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی دباؤ کے تحت کچھ ایسی تنظیموں کے خلاف بھی ایکشن لیا جا رہا ہے جن کے بارے میں یہ یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ وہ غلط سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔رانا افضل نے کہا کہ ‘جیسے فلاح انسانیت فاونڈیشن (ایف آئی ایف) جو حافظ سعید کی تنظیم ہے کہیں ایمبولینسز چل رہی ہیں لیکن اب ہم نے اُن پر بھی پابندی لگا دی ہے تاکہ انھیں مطمئن کر سکیں۔ انھیں شائد اُن کا نام اچھا نہیں لگ رہا۔’رانا افضل نے واضح کیا کہ یہ فیصلہ ہو گیا ہے کہ وہ (ایف آئی آیف) اس نام کے ساتھ یا اُس بینر تلے کام نہیں کریں گی۔ اگر سروس یا ایمولینس چلنی ہے تو وہ کسی اور پلیٹ فارم اور کسی اور مینجمنٹ کے تحت کام کر سکتے ہیں، جس پر ان کو شبہ یا شک نہ ہو۔’یاد رہے کہ فلاح انسانیت فاؤنڈیشن سنہ 2012 سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے تحت کالعدم قرار دی گئی ہے لیکن پاکستان میں اس تنظیم کے تحت سینکٹروں ایمبولینسز ملک کی مختلف علاقوں میں کام کر رہی ہیں۔پنجاب میں فلاحِ انسانیت کے خلاف کریک ڈؤان شروع ہو گیا ہے اور راولپنڈی کی ڈسٹرکٹ انتظامیہ نے فلاحِ انسانیت فاؤنڈیشن کے زیر انتظام چار ڈسپنسریوں کو اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے۔پاکستان کے وزیر مملکت کا کہنا ہے کہ ‘اگر یہ تنظیمیں دہشت گردی میں ملوث ہیں تو اس کا ثبوت پاکستان کی حکومت کے پاس ہونا چاہیے یا پھر وہ ثبوت دیں جو ہمیں تجویز کر رہے ہیں۔’اس سے قبل پاکستان کے مشیر برائے اُمور خزانہ مفتاح اسماعیل نے غیر ملکی خبر رساں ایجنسی رویئٹرز کو بتایا تھا کہ پاکستان کو واچ لسٹ میں شامل کرنے کے لیے امریکہ فائنشل ایکشن ٹاسک فورس کے اجلاس میں تحریک پیش کر رہا ہے اور برطانیہ، فرانس اور جرمنی بھی اُس کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔یاد رہے کہ دو ہزار بارہ سے دو ہزار پندرہ تک پاکستان فائنشل ایکشن ٹاسک فورس کی واچ لسٹ میں رہ چکا ہے۔پاکستان کے وزیر مملکت برائے خزانہ نے کہا کہ پاکستان امریکہ، برطانیہ، جرمنی اور فرانس سے رابطے میں ہے تاکہ عالمی واچ لسٹ میں پاکستان کی نامزدگی کو روکا جاسکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں