3 71

اب اسمارٹ فون کو بطور ’مائیکرو اسکوپ‘ استعمال کرنا ممکن

کسی بھی چیز کا باریکی سے جائزہ لینے کے لیے عموماً اسے لیبارٹری لے جاکر مائیکرو اسکوپ سے جانچا جاتا ہے، تاہم اب اس کی ضرورت پیش نہیں آئے گی کیونکہ اب یہ کام اسمارٹ فون کی مدد سے کرنا ممکن ہوگیا ہے۔

آسٹریلیا میں ٹیکنالوجی اور تحقیق کی مدد سے مائیکرو اسکوپ ’کلپ۔آن‘ متعارف کروائی گئی ہے جسے اسمارٹ فون کیمرے کے پیچھے لگایا جائے گا۔

مائیکرو اسکوپ ’کلپ۔آن‘ کو آسٹریلیا کی آر ایم آئی ٹی یونیورسٹی کے ایک تحقیقی شعبہ اے آر سی سینٹر آف ایکسلینس فارنینواسکیل بائیوفوٹونیکس کی جانب سے تیار کیا گیا ہے۔

یہ ایک چھوٹی 3 ڈی پرنٹ ایبل کلپ ہوگی جس کو با آسانی ساتھ رکھا جاسکتا ہے اور جب چاہے اسمارٹ فون کیمرے کے پیچھے لگا کر استعمال کیا جاسکتا ہے۔

میش ایبل کی ایک رپورٹ کے مطابق اس کے ذریعے 1/200 ملی میٹر تک باریک جرثومے، جانور اور پودوں کے خلیات، بلڈ سیلز اور نیوکلیئر سیلز اسمارٹ فون میں دیکھے جا سکتے ہیں۔

اس کی اہم بات یہ ہے کہ اس کے اندر ’الیومینیشن ٹنلز‘ بھی ہوں گے جو کیمرے کی فلیش لائٹ کو اس کے اندر سے گزرنے کا راستہ فراہم کرے گی تاکہ کسی بھی چھوٹی چیز کو بغیر دشواری کے دیکھا جا سکے۔

اس کو بنانے والے ایک محقق ڈاکٹر اینٹونی آورتھ کا کہنا ہے کہ عام طور پر مائیکرو اسکوپ میں ایکسٹرنل پاور لائٹ کا استعمال کیا جاتا ہے، جس کے نتائج باریکی سے جانچنے کے لیے بہترین ثابت نہیں ہوتے جب کہ یہ کلپ صرف اسمارٹ فون کی فلیش لائٹ کے ساتھ ہی بہترین کام کرے گی۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر اسمارٹ فون مائیکرو اسکوپ کا کامیاب تجربہ کیا ہے جب کہ اس کی آزمائش دیگر محقیقین بھی کر رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں