hec-leaves-loophole-in-us-pakista 210

مدارس فضلاء کی اسناد ایک بار پھر ردی کی ٹوکری کی نذر!

………………………………………………
یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ کئی سال سے دینی مدارس کے فضلاءکی اسناد کا مسئلہ آخر حل کیوں نہیں ہوپارہا؟ ایسا بھی اس سند میں کیا ایٹم بم پوشیدہ ہے جسے قبول کرکے پاکستان کی سالمیت خطرے میں پڑجانے کا خطرہ ہے؟دینی مدارس کی انتظامیہ پر بھی حیرت ہے کہ کیوں ہر بار محکمہ تعلیم کی باتوں میں آجاتی ہے؟ وقتاً فوقتاً ”شہادة العالمیہ“ کی سند کو مسترد کیے جانے کی خبریں آتی ہیں، دینی مدارس کی انتظامیہ محکمہ تعلیم سے احتجاج کرتی ہے تو حکومت اور محکمہ تعلیم کی جانب سے انہیں شاید جھوٹی یقین دہانی کروادی جاتی ہے۔ اتنا بھی کیا یہ لاینحل مسئلہ ہے جو حل ہوکے نہیں دے رہا۔ پاکستان میں چند سو بندے اکھٹے ہوکر چاہیں تو حکومت سے اپنی بات منوا لیتے ہیں، لیکن یہاں تو حکومت اور محکمہ تعلیم تمام مکاتب فکر کے ہزاروں دینی مدارس میں لاکھوں طلبہ و طالبات کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کرتے ہیں اور دینی مدارس کی انتظامیہ اپنی بات منوانے سے قاصر نظر آتی ہے اور نہ ہی سیاسی مذہبی جماعتیں اس معاملے میں کچھ سنجیدہ نظر آتی ہیں، حالانکہ الیکشن میں یہ دینی مدارس ہی مذہبی سیاسی جماعتوں کا خام مال ثابت ہوتے ہیں۔ گزشتہ روز ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر شیخوپورہ نے بتایا کہ بی اے کی شرط کے ساتھ شہادة العالمیہ کی سند کی بنیاد پر ایجوکیٹرز کے لیے کامیاب قرار پانے والے 3لڑکوں کے نام 22فروری کو حتمی لسٹ سے خارج کیے گئے ہیں اور اسی شرط کے ساتھ ایجوکیٹرز کے لیے کامیاب قرار پانے لڑکیوں کے نام بھی حتمی لسٹ سے خارج کردیے جائیں گے۔ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کا کہنا تھا کہ سیکرٹری ایجوکیشن کی طرف سے پورے پنجاب میں یہی آرڈرز جاری کیے گئے ہیں کہ شہادة العالمیہ ایم اے اسلامیات کے مساوی نہیں ہے،بلکہ صرف ایم اے عربی کے مساوی ہے۔ یہ تو صرف شیخوپورہ کا احوال ہے، پورے پنجاب سے ایسے کتنے امیدواروں کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے، اس کا علم نہیں۔ ایک جانب تو دینی مدارس کو قومی دھارے میں شامل کرنے کی بات کی جاتی ہے اور دوسری جانب ان میں تمام تر صلاحیت اور ٹیسٹ اور انٹرویو میں کامیاب ہوجانے کے باوجود ان کا راستہ روکا جاتا ہے۔ یہ کھلی منافقت نہیں ہے تو اور کیا ہے۔ بہرحال ہزاروں دینی مدارس پر مشتمل مختلف مکاتب فکر کے پانچوں تعلیمی بورڈز اور مذہبی سیاسی جماعتوں کو اس مسئلے کو مستقل بنیادوں پر حل کروانا چاہیے۔
مقامی اخبارات میں چھپنے والی خبر کے مطابق پنجاب میں ایجوکیٹرز بھرتیوں کے دوران دینی مدارس کے فضلاءکے ساتھ ایک بار پھر امتیازی سلوک برتا جانے لگا۔ محکمہ تعلیم پنجاب کی طرف سے تمام مکاتب فکر کے دینی مدارس کی ”شہادة العالمیہ“ کی سند کو مسترد کیے جانے کے احکامات جاری کردیے گئے ہیں۔ آرٹس ٹیچرز کے لیے جہاں یونیورسٹی اور کالج سے پاس شدہ ایم اے اسلامیات قابل قبول ہے، وہیں شہادہ العالمیہ جو ایچ ای سی کے نوٹیفکیشن کے مطابق ایم اے اسلامیات کے مساوی ہے، لیکن اب اسے تسلیم نہیں کیا جا رہا۔ ایچ ای سی نے دینی مدارس کے پانچوں تعلیمی اور امتحانی بورڈزکی طرف سے جاری کردہ ”شہادة العالمیہ “کی سند کو بغیر کسی اضافی شرط کے ایم اے اسلامیات و ایم اے عربی کے مساوی تسلیم کیا ہے، لیکن محکمہ تعلیم پنجاب کی جانب سے کہا جارہا ہے کہ ”شہادة العالمیہ“ کے ساتھ بی اے کرنے کے باوجود ”شہادة العالمیہ“ کی ڈگری ایم اے اسلامیات کے مساوی نہیں ہے، بلکہ صرف ایم اے عربی کے مساوی ہے، اس لیے اس ڈگری پر آرٹس ٹیچرز کے حصول کے لیے قبول نہیں کیا جاسکتا، حالانکہ ایچ ای سی کے نوٹیفکیشن کے مطابق ”شہادة العالمیہ“ کسی بھی اضافی شرط کے بغیر ایم اے اسلامیات اور ایم اے عربی کے مساوی ہے۔اس حوالے سے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر شیخوپورہ کا کہنا تھا کہ سیکرٹری ایجوکیشن کی طرف سے پورے پنجاب میں آرڈر جاری کیے گئے ہیں کہ شہادة العالمیہ ایم اے اسلامیات کے مساوی نہیں ہے، لہذا ایجوکیٹرز کے لیے ٹیسٹ اور انٹرویو میں کامیاب ہونے والے امیدواروں کے نام حتمی لسٹ سے خارج کردیے جائیں، جس کے بعد ڈسٹرکٹ ایجوکیشن نے ان امیدواروں کے نام حتمی لسٹ سے خارج کردیے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پنجاب کا محکمہ تعلیم چونکہ ایچ ای سی کے ماتحت نہیں ہے، اس لیے ہم ایچ ای سی کی پالیسی بھی ماننے کے پابند نہیں ہیں۔ اگر سیکرٹری ایجوکیشن حکامات جاری کردے تو ہم اپنی پالیسی واپس لے سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ ایجوکٹرز کی حتمی لسٹ 28فروری کو لگائی جائے گی، لیکن 22فروری کو محکمہ تعلیم پنجاب نے یہ احکامات جاری کیے ہیں۔ حکومت پنجاب کے ایسے اقدامات سے وفاق المدارس کے پانچوں بورڈز سے تعلق رکھنے والے اہل مدارس اور دینی طلبہ میں شدید اضطراب اور بے چینی پائی جارہی ہے۔ چند روز قبل بھی جب پنجاب میں ایجوکیٹرز بھرتی کے دوران دینی مدارس کے فضلاءکی درخواستیں اور اسناد مسترد کیے جانے پر ملک بھر میں تشویش و اضطراب کی لہر دوڑ گئی تھی تو دینی مدارس کی انتظامیہ کے احتجاج کے بعد سیکرٹری تعلیم نے دینی مدارس کے تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کروائی تھی، لیکن اب ایک بار پھر دینی مدارس کے فضلاءکے ساتھ ناانصافی کی جارہی ہے ،جو مدارس کے فضلاءکی حق تلفی اور قوم کے ہزاروں بچوں کو مین اسٹریم میں آنے سے روکنے اور احساس محرومی کو اجاگر کرنے کے مترادف ہے۔
بشکریہ
(عابد محمود عزام)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں