haseem 267

مشرقِ وسطیٰ کا نیا ہٹلر…… ڈاکٹر ابراہیم العثیمین

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے حال ہی میں نیویارک ٹائمز سے ایک انٹرویو میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو ’’ مشرقِ وسطیٰ کا نیا ہٹلر‘‘ قرار دیا تھا۔انھوں نے کہا:’’ ہم نے یورپ سے یہ سیکھا ہے کہ اس طرح کے امور میں مفاہمت یا مصالحت کام نہیں کرتی ہے ۔ہم نہیں چاہتے کہ ایران کا ہٹلر مشرقِ وسطیٰ میں وہی کچھ کرے جو یورپ کے ساتھ ہوچکا ہے‘‘۔سعودی ولی عہد کا ایران کی صورت حال کے بارے میں یہ تجزیہ بہت مناسب حال ہے کیونکہ ایران نے انقلاب کے بعد ولایت فقیہ (اسلامی فقہ کی نگرانی)کے نام سے ایک سفاکانہ نظریہ اپنایا تھا۔ یہ دراصل انقلاب کو جاری رکھنے اور خطے اور دنیا بھر میں دہشت گردی اور اس کی ترغیب دینے ایسے مسائل کو قانونی تحفظ دینے کی چھتری ہے۔
سپریم لیڈر کے نام سے جانے جانے والے ’’ سرپرست فقیہ‘‘ کو ایران میں حتمی اختیار حاصل ہے۔بالکل ایسے جس طرح قرون ِ وسطیٰ کی پاپائی ریاستوں میں پاپائیت کا نظام تھا۔ ان ریاستوں میں حکمراں کو زمین پر اللہ کا نمائندہ سمجھا جاتا تھا۔ایران کے آئین کی دفعہ پانچ میں یہ کہا گیا ہے کہ جب تک امام مہدی غائب رہتے ہیں،تب تک ایران میں اُمہ کی قیادت کا فریضہ اور رہ نمائی ولایت فقیہ کے ذمے ہوگی ،جو شائستہ ، نیک ،وقت کے تقاضوں سے باخبر ، بہادر اور قیادت کا اہل ہوگا۔
فرقہ وار نقطہ نظر
مزید برآں اسلامی فقیہ کی سرپرستی قومیت پرستی کو تسلیم نہیں کرتی ہے کیونکہ یہ فرقہ وار نقطہ نظر کی حامل ہے اور یہ دعویٰ کرتی ہے کہ دنیا بھر سے تعلق رکھنے والے شیعہ ایران سے وفاداری کا اظہار کریں۔
ایران کا آئین یہ کہتا ہے کہ اسلامی انقلاب کے سپریم لیڈر کو ’’شیعہ قوم‘‘ پر حکمرانی کا حق حاصل ہے کیونکہ اس کےحقیقی لیڈر یعنی امام مہدی اس وقت حالت ِغیوبت میں ہیں۔اس میں یہ کہا گیا ہے کہ دنیا بھر سے تعلق رکھنے والے اہل ِتشیع کو اسلامی انقلاب کے مرشدِ اعلیٰ سے اپنی حتمی وفاداری کا اظہار کرنا چاہیے۔
چنانچہ ایران نے فرقہ واریت کو آئین میں سمو دیا ہے اور دنیا کے اہل تشیع کو ولایت فقیہ کی حکمرانی کے تحت کر دیا ہے۔ اس نے مسلح گروپوں اور جاسوسی سیلوں ،ملیشیاؤں اور تنظیموں کو ولایت فقیہ کا وفادار بنا دیا ہے اور یہاں ان کی قومیت کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔بہت سی شیعہ ملیشیائیں ولایت فقیہ کی ہدایات کے تحت کام کررہی ہیں۔ان میں لبنان کی حزب اللہ ، عراق میں الحشد الشعبی ، یمن میں حوثی ملیشیا ، خلیجی ریاستوں یا دنیا بھر میں جاسوسی سیل شامل ہیں۔ایران کی وزارتِ خارجہ میں خلیج اور مشرقِ وسطیٰ مرکز کے ڈائریکٹر حامد رضا داغانی نے عراق میں آیت اللہ علی السیستانی اور قُم کے تعلیم یافتہ دوسرے عراقی شیعہ علماء کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی عراق میں ’’نرم طاقت‘‘ کو اس ملک اور خطے میں ایرانی مقاصد کے حصول میں ایک بنیادی عامل کی حیثیت حاصل تھی۔
مطلق العنان نظریہ
اس تناظر میں سعودی ولی عہد کا ایران کے مطلق العنان نظریے کے بارے میں پُر مغز تبصرہ بڑا جامع ہے اور مختصر بھی ہے کہ اس میں اور نازی جرمنی میں کوئی فرق نہیں ہے ۔یہ ایک ایسا مطلق العنان نظام ہے جو توسیع پسندانہ عزائم کا حامل اور نسل پرستانہ ہے ۔یہ تمام بین الاقوامی کنونشنوں کو درخور اعتناء نہیں ساجھ ۔گذشتہ آٹھ عشروں کے دوران میں مطلق العنان نظریے کے ظہور کے بعد سے اس سے مفاہمت اور سمجھوتے کا راستہ اختیار کیا گیا جس کی وجہ سے اس سے نمٹا نہیں جاسکا ہے۔سعودی عرب ، خلیج اور بین الاقوامی برادری کے عشروں کے ضبط وتحمل کے بعد اب اس قسم کے رجیم کے ساتھ مکمل محاذ آرائی ہی اس سے نمٹنے کا واحد اور حتمی راستہ رہ گیا ہے۔یہ رجیم دہشت گردی کا سب سا بڑا حامی اور پشتیبان ہے ۔اس نے دوسرے ممالک کے داخلی امور میں مداخلت اور ان کے امن اور سلامتی کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔
صرف محاذ آرائی ہی سے مطلق العنان انقلابی نظریے کو خیرباد کہنے والوں کا ظہور ہوسکتا ہے۔وہ قومیت پسندی ، قومی ریاستوں ، بین الاقوامی کنونشنوں کے احترام کے تصورات کے لیے انقلابی تصورات کو مسترد کرسکتے ہیں اور دوسرے ممالک کے داخلی امور میں مداخلت کو بھی مسترد کرسکتے ہیں۔صرف اس ایک طریقے ہی سے ایک صحت مند سیاسی فضا قائم کی جاسکتی ہے اور شاید اس سے خطے میں استحکام اور موجودہ شورش پسندی اور طوائف الملوکی کا خاتمہ ہوسکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں