3 90

شامی فوج کی مشرقی غوطہ میں کارروائیاں جاری، ہلاکتیں 1 ہزار سے تجاوز کرگئیں

دمشق: شام میں باغیوں کے زیر قبضہ علاقے مشرقی غوطہ میں حکومتی فورسز کے حملے جاری ہیں اور دو ہفتوں کے دوران مرنے والوں کی تعداد 1 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ 4 ہزار سے زائد افراد زخمی ہیں۔

جنگ زدہ علاقوں میں طبی سہولیات فراہم کرنے والی تنظیم ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز (ایم ایس ایف) کا کہنا ہے کہ 18 فروری سے شروع ہونے والے ان حملوں میں اب تک ایک ہزار سے زائد افراد مارے جاچکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ان حملوں کے دوران ایم ایس ایف کے بھی تقریباً 15 کے قریب طبی یونٹس اور شیلٹرز تباہ ہوئے۔

گذشتہ روز عالمی ادارے ریڈ کراس کے 13 امدادی ٹرک مشرقی غوطہ کے متاثرہ علاقے پہنچے، تاہم اس دوران شیلنگ اور بمباری بھی جاری رہی۔

ان ٹرکوں میں کھانے پینے کی اشیا کے علاوہ ادویات بھی شامل تھیں، بمباری کے باوجود امدادی کارکنوں نےکئی روز سے بھوکے شامی شہریوں میں خوراک تقسیم کی۔

مشرقی غوطہ میں جاری بمباری کے باعث متعدد لوگ وہاں سے نقل مکانی بھی کرچکے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین کے مطابق یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا کہ شامی پناہ گزین اپنے علاقوں کو لوٹ سکتے ہیں کیونکہ وہاں صورت حال اب بھی غیر محفوظ ہے۔

بیروت میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے ادارے کے ہائی کمشنر نے کہا کہ لبنان میں پناہ گزین شامی باشندوں میں سے 90 فیصد اپنے وطن لوٹنا چاہتے ہیں تاہم ان میں سے کوئی بھی اس وقت واپس جانے کا خواہش مند نہیں۔

دوسری جانب شام کے باغی گروپ جیش الاسلام کی رضامندی کے بعد مشرقی غوطہ کی جیلوں میں قید نصرہ فرنٹ کے جنگجوؤں کا پہلا گروپ علاقے سے نکل گیا۔

تنظیم کے مطابق قیدیوں کی منتقلی کا فیصلہ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کی مشاورت کے بعد کیا گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں