%d9%82%d9%86%d8%af%d9%88%d8%b2-%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85-%d8%a2%d8%a8%d8%a7%d8%af-%d8%a7 83

اسلام آباد میں‌مدارس کے چھوٹے بچوں کا احتجاج

کراچی کے بعد اسلام آباد میں بھی مدارس کے طلبہ کا  شہداء قندوز کے لیے احتجاج

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قندوز میں قرآن کریم حفظ کرنے والے بچوں کو شہید کیا گیا، ان بچوں کے حفظ قرآن کی دستار بندی کی تقریب تھی…….ان طفلان بہشتی نے سفید عمامے سر پر سجائے تھے اور ان کے سرپرست اور عزیز و اقارب جمع تھے، اس موقع پر ڈرون حملہ کیا گیا اور سو سے زیادہ بچے آگ و خون کی نذر ہوگئے……. اس سے پہلے باجوڑ کے ایک مدرسے پر بمباری کی گئی تھی اور 80 بچے شہید ہوئے تھے……. اس سانحہ پر ہر درد مند مسلمان کی آنکھ نم ہے…….. عالمی میڈیا اس پر خاموش رہا، ملکی میڈیا نے بھی اسے خاص اہمیت نہیں دی، انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی رد عمل ظاہر نہیں کیا….. ہماری ریاست کے حفاظتی اداروں نے رسمی مذمتی بیانات جاری کرنے کی ضرورت بھی نہیں سمجھی، نہ مرثیوں کی صدا بلند ہوئی، نہ غم کے نوحے کہے گئے، نہ اسکرینوں پر حزن و الم کے ساز چھیڑے گئے، یہ ایک دہرا معیار ہے، جس سے ساری دنیا گزشتہ کئی عشروں سے دیکھ رہی ہے اور اس کی آغوش سے انتقامی جذبوں کی ایک نئی نسل نمو پا رہی ہے، جو موقع تلاش کر کے بزعم خود قرض چکا رہی ہے…
یقینا سوشل میڈیا پر آواز بلند ہوئی، اور اس کا ایک اثر رہا، پاکستان میں چند حضرات نے مدرسے کے چھوٹے بچوں کو اس حوالے سے ذریعہ احتجاج بنایا، اور سڑکوں کے کنارے قرآن خوانی کے لیے انہیں بٹھایا، قندوز کے سانحے پر اس انوکھے احتجاج سے ان کا مقصد دنیا کو جہاں اس ظلم و بربریت کی طرف متوجہ کرنا ہے، وہاں دنیا کو یہ پیغام بھی دینا ہے کہ قرآن کریم پڑھنے والے مدرسے کے یہ بچے، معصوم بچے ہیں، دہشت گرد نہیں.
یہ اپنی جگہ ایک حقیقت ہے کہ قندوز کے معصوموں کو خون میں نہلانے والے ذہن آپ کے قرآن کے دشمن ہیں، اسلام کے دشمن ہیں…… یہ عمامے، یہ لباس، اور یہ ہیئت و تشخص انھیں زہر لگتا ہے، وہ اسے مٹانا چاہتے ہیں….. یہ اور بات ہے کہ پھونکوں سے یہ چراغ نہ بجھ سکا ہے، نہ بجھے گا.
%d9%82%d9%86%d8%af%d9%88%d8%b2-%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85-%d8%a2%d8%a8%d8%a7%d8%af
ہماری گزارش ہے کہ ہمیں اپنےمدارس کے نظام تعلیم کو میڈیا آرائی سے محفوظ رکھنا چاہیے، چھوٹے بچوں کو سڑکوں پر لانا کسی بھی طرح مناسب نہیں، یقینا اس انوکھے احتجاج میں نہ ٹریفک کی روانی متاثر کی گئی اور نہ ہی کسی قسم کے نعرے لگائے گئے، لیکن بہرحال مدارس کے یہ چھوٹے بچے والدین اور قوم کی امانت ہیں، ان کی عمر ابھی کسی بھی طرح احتجاج میں شمولیت کی نہیں، میرے بھائیو!……. چاروں سمت دشمن اور قدم قدم پر رہزن ہیں…… کوئی بھی حادثہ ہوگیا تو مدارس کے خلاف ایک طوفان کھڑا ہوگا، قندوز پر آج کا خاموش میڈیا مدارس کے خلاف آسمان سر پر اٹھائے گا، اور پھر ہم یہ کہتے کہتے تھک جائیں گے کہ ہمارے مدارس بچوں کے لیے محفوظ تعلیم گاہیں ہیں…….. یہ کام کوئی کتنے ہی اخلاص سے کیوں نہ کرتا ہو، مدارس کے بنیادی ہدف و مقصد کے لیے نقصان دہ ہے، فتوے اور شریعت کی رو سے بھی اس پر کئی سوالات اٹھ سکتے ہیں، ہمارے خیال میں اس انوکھے احتجاج کا فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہے، اس لئے اپنے کرب و الم کے اظہار کے لیے کوئی اور راستہ اختیار کیجئے.۔۔۔۔۔اللہ ہم سب کا حامی اور ناصر ہو
مولانا ابن الحسن عباسی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں