hjkh 96

سعودی روشن خیالی کاسفر جاری ،خواتین کی سائیکل ریس

سعودی عرب میں منعقد ہونے والی خواتین کی پہلی سائیکل ریس میں خواتین کی بڑی تعداد نے حصہ لے کر قدامت پسند قوم کے علاوہ سوشل میڈیا پر متعدد افراد کو حیران کر دیا۔خواتین کی یہ پہلی سائیکل ریس سعودی عرب کے شہر جدہ میں منگل کو منعقد ہوئی۔اس سائیکل ریس کا انتظام بی ایکٹیو نامی گروپ نے خـواتین سائیکل سواروں اور مقامی حکام کے ساتھ مل کر کیا،دس کلو میٹر کے فاصلے پر محیط اس سائیکل ریس میں 47 خواتین نے حصہ لیا
سائیکل ریس کی منتظمہ ندیما ابو العین نے مقامی میڈیا میں نشر کیے جانے والے ایک بیان میں کہا کہ وہ اس ریس میں شریک ہونے والی خواتین کی تعداد دیکھ کر حیران ہوئی ہیں۔انھوں نے کہا کہ آرگنائزنگ کمیٹی کو سائیکل ریس میں بڑی تعداد میں خواتین کی شرکت کرنے کی وجہ سے اس کی تعداد کو بڑھا کر 30 سے 47 تک کرنا پڑا۔ایک ٹویٹر صارف نے تبصرہ کیا: ’میں مذہبی عالم نہیں ہوں لیکن اس سے ایک خاتون گمراہ ہو سکتی ہے اور سائیکل چلاتے ہوئے مرد اس کے تمام پرکشش حصوں کو دیکھ سکتا ہے۔ اگر وہ سائیکل چلانا چاہتی تو وہ ضرور چلائے لیکن نہ عوام میں اور نہ لوگوں کے سامنے۔‘ نے سائیکل یاس کو منعقد کروانے کے لیے انتظامیہ کی تعریف کی۔ انھوں نے ٹویٹ کی ’ہم آپ کے اعتراضات کی پرواہ نہیں کرتے ہیں۔‘نے ریس کے مخالفین کو جواب دیا: ’5، 10 یا 20 سال بعد، وہ خواتین جو سوشل میڈیا پر اس واقعے پر تنقید کر رہی ہیں اسی طرح کی ریس میں حصہ لیں گی یا ان میں شرکت کریں گی اور ان کی ریس پر خوش ہوں گی اور جب وہ پیچھے مڑ کر دیکھیں گی تو اپنے موجودہ رد عمل پر شرمندہ ہوں گی۔‘ندیما ابو العین نے سعودی خواتین میں وسیع پیمانے پر سائیکلنگ کے شعور کو فروغ دینے کے لیے سماجی میڈیا کا استعمال کرتے ہوئے سنہ 2017 میں خواتین کا سائیکل کلب قائم کیا تھا۔ندیما ابو العین نے سائیکل ٹو ڈے کے ساتھ ایک انٹرویو میں ملک میں اپنی اور ساتھی سائیکل سواروں کی مشکلات کو بیان کیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ خواتین سائیکل سواروں کی تعداد وقت کے ساتھ ساتھ بڑھی ہے۔سعودی عرب کے حکام نے سنہ 2013 میں ایک فرمان کے ذریعے خواتین کو تفریحی علاقوں میں اس شرط کے ساتھ سائیکل چلانے کی اجازت دی تھی کہ وہ سائیکل چلاتے ہوئے مناسب لباس پہنیں اور ایک مرد محافظ ہر وقت ان کے ساتھ رہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں