jamiaturasheed 70

جامعۃ الرشید تقسیم اسناد، 359 طلبہ کو دستار فضیلت دی گئی

سابق چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چودھری ، ناظم اعلیٰ وفاق المدارس العربیہ پاکستان مولانا حنیف جالندھری ، صوبائی وزیر اطلاعات ناصر حسین شاہ،جامعہ بنوریہ عالمیہ کے رئیس وشیخ الحدیث مفتی محمدنعیم ودیگر کا خطاب
کراچی ( ) علماءنے پیغام پاکستان کی صورت میں اپنے ذمے کا قرض ادا کردیا ہے۔ اس حوالے سے جامعة الرشید جیسے ادارے کا سامنے آنا اور آگے بڑھ کر کردار ادا کرنا خوش آئند ہے۔ پیغام پاکستان ایک بیانیہ ہے جو قوم کی آواز بن رہی ہے۔ اس کو عمل میں لانے کی ضرورت ہے۔ بحیثیت قوم بہت مشکل دور سے گزر رہے ہیں۔ہم فرقوں میں بٹ چکے ہیں۔ نان ایشوز پر ایک دوسرے کو نشانہ بناتے ہیں، بیرونی دنیا میں ہمیں دہشت گرد کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، پیغام پاکستان کو قانونی شکل دے کر عالمی سطح پر ملکی امیج کا بہتر بنایا جا سکتا ہے ، اتحاد بین المسلمین کے حوالے سے جامعة الرشید نے قائدانہ کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان اور اُمتِ مسلمہ کے دشمن یہاں امن نہیں چاہتے لیکن جامعة الرشید کا اس حوالے سے نہایت احسن کردار ادا رہا ہے۔ان خیالات کا اظہار مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے نامور افراد نے معروف دینی تعلیمی ادارے جامعة الرشید کی سالانہ تقریب تقسیم اسنادو انعامات اور پیغام پاکستان کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ تقریب سے سابق چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چودھری ، ناظم اعلیٰ وفاق المدارس العربیہ پاکستان مولانا حنیف جالندھری ، صوبائی وزیر اطلاعات ناصر حسین شاہ، سابق وائس ایڈمرل عارف اللہ حسینی (ہلال امتیاز، تمغہ بسالت )، ترکی کے معروف عالم دین الشیخ الدکتور احسن اوجاق،بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے ریکٹر ڈاکٹر معصوم یاسین زئی، سابق آئی جی سندھ ڈاکٹر محمد شعیب سڈل ، سابق چیئرمین ہائیر ایجوکیشن کمیشن پاکستان ڈاکٹر مختار احمد ، اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر قبلہ ایاز، سینئر صحافی رحیم اللہ یوسف زئی ، معروف اینکر ڈاکٹر انیق احمد، معروف تاجر اور سبق چیئرمین سندھ بورڈ آف انوسمنٹ زبیر موتی والا ، جامعہ بنوریہ کے مہتمم مفتی محمد نعیم و دیگر ممتاز شخصیات نے خطاب کیا جبکہ جامعہ دارالعلوم کراچی کے استاد الحدیث مولانا راحت علی ہاشمی ڈاکٹر نبیل زبیری، مولانا مفتی محمد طیب،ریاض چامڑیا ،معروف صحافی عبدالجبار خٹک، تجزیہ نگار اور پروگرام اینکر وسعت اللہ خان، مفتی مزمل حسین کاپڑیا، ڈاکٹر ہانی منصور محمد المزیدی، نوید زبیری، سید محمد حسین، شاہد صابر، و دیگرنے شرکت کی ۔
jamiaturasheeds
اس موقع پر مختلف شعبوں سے359طلبہ فارغ التحصےل طلبہ جن میں درس نظامی کے64،کلیة الشریعہ کے27، BS. MBA.BAاورB.com کے60،تخصص فی الفقہ المعاملات المالےہ کے9،تخصص فی الافتاءوفقہ الحلال کے23و دیگر اسپیشل کورسز کے176طلبہ کو اسناد عطا کی گئےں،طلباءکو مختلف کتب کے سیٹ اور ساڑھے3لاکھ کتابوں پر مشتمل ڈیجیٹل لائبریری کی ہارڈ ڈسک دی گئی ۔ تقریب کے مہمان خصوصی سابق چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چودھری نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جامعة الرشید اس قوم کی بہت بڑی خدمت کررہا ہے۔ فارغ التحصیل طلبہ کو مبارک باد دیتا ہوں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارا یہ ادارہ بہت اہم خدمات سرانجام دے رہا ہے۔ یہاں سے جو طالب علم فارغ ہوتے ہی ان کو فارغ ہونے سے پہلے ادارے اپنے ہاں ملازمت کی پیشکش کرتے ہیں۔ یہی اس ادارے کے فائدہ مند ہونے کا ثبوت ہے۔ قانون کے طالب علم ہونے کی حیثیت سے کہوں گا کہ پیغام پاکستان کو قانونی شکل نہیں دی گئی۔ شاید اسلامی نظریاتی کونسل اقدامات اٹھا رہی ہے لیکن چونکہ پاکستان میں ایک تحریری آئین موجود ہے لہذا جو دستاویز پاکستان کے مفاد میں ہو آئینی تقاضا ہے کہ اسے آئینی شکل دی جائے۔ناظم اعلیٰ وفاق المدارس العربیہ پاکستان مولانا حنیف جالندھری خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جیسا جامعة الرشید ایک منفرد تعلیمی ادارہ ہے ایسے ہی آج کی یہ تقریب بھی منفرد ہے۔ میں تحدیثِ نعمت کے طور پر کہتا ہوں کہ جامعة الرشید بھی ایک مدرسہ ہے جو آپ کے سامنے ہےجہاں نہ صرف دینی تعلیم دی جاتی ہے بلکہ عصری علوم کی تعلیم بھی دی جاتی ہے۔ ہم وہ علوم بھی دیتے ہیں کہ جو ہماری ضرورت بھی ہے اور وہ بھی جو ہمارا ہمارا مقصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان مدارس نے ہمیشہ امن کا پیغام دیا ہے۔ پیغام پاکستان اس کا ثبوت ہے۔ ہم نے 2004ءمیں بھی دہشت گردی کے خلاف فتویٰ دیا جس کی پاداش میں وفاق المدارس کے نائب صدر مولانا حسن جان کو شہید کیا گیا۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ پیغام پاکستان پر عمل کیا جائے۔بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے ریکٹر ڈاکٹر معصوم یاسین زئی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کی نظر ہمارے معاشرتی مسائل کے حل پر مرکوز ہے۔ یہ یونیورسٹی قومی یکجہتی کی علامت ہے اس لیے تمام علمائ، اسکالر اس پر اعتبار کرتے ہیں۔ صدر مملکت ممنون حسین نے دہشت گردی، انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے ابتدائیہ تشکیل دینے کی ہدایت کی۔ اس مسودے پر ایک سال کام کیا گیا۔ قومی جامعات کے اساتذہ، سول سوسائٹی، علماءکی آراءکی روشنی میں مسودہ تشکیل دیا گیا۔ اس مسودے پر 1829 علمائے کرام نے دستخط کےے اور بالاخر 16 جنوری 2018ءکو صدرہاﺅس میں اس مسودے جس میں تمام علماءکا فتویٰ بھی شامل ہے، کی تقریب رونمائی ہوئی۔ تاہم ہمارا اصل کام اب شروع ہوا ہے۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل نے اس پر کام شروع کردیا ہے۔ ادارہ تحقیقات اسلامی چاروں صوبوں میں اس پیغام کو لے کر جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے جامعة الرشید جیسے ادارے کا سامنے آنا اور آگے بڑھ کر کردار ادا کرنا خوش آئند ہے۔ پاکستان کا تحفظ اور امن کا قیام ہمارا دینی فریضہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دینی تعلیم کو عصری تعلیم سے الگ کرنے کے بعد مسلمانوں کی تنزلی شروع ہوئی۔ اس معاشرے کو صحیح ڈگر پر لانے کے لیے اس کے سوا کوئی حل نہیں رہا کہ ہم دینی و عصری علوم کے امتزاج پر مشتمل نظام تعلیم کو اپنائیں۔ جامعة الرشید میں سینکڑوں طلبہ ایسے زیر تعلیم ہیں جو ڈاکٹر، انجینئرز اور ماسٹر ڈگری ہولڈرز ہیں لیکن دینی تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ آج اس پاکستانی معاشرے کا سب سے بڑا نقص یہ ہے کہ ہم صبح سے رات تک معاملات کرتے ہیں لیکن ہمیں یہ علم نہیں کہ دین کی روشنی میں ہم کیسے اپنے معاملات کو حل کرسکتے ہیں۔ جامعة الرشید ہمارے ایسے مسائل حل کررہی ہے۔اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر قبلہ ایازنے اپنے خطاب میں کہا کہ علماءنے پیغام پاکستان کی صورت میں اپنے ذمے کا قرض ادا کردیا ہے ۔ پاکستان ایک نئے دور میں داخل ہورہا ہے یعنی سی پیک کے بعد کا پاکستان، ہمیں اُمید ہے معاشی طور پریہ ایک خود مختار پاکستان ہوگا۔ یہ پاکستان ہم سے کچھ تقاضے بھی کرتا ہے کہ بعد سی پیک پاکستان ہم آہنگی چاہتا ہے۔ چنانچہ علماءکرام اور اتحاد تنظیمات مدارس کا ہم پر بہت بڑا احسان ہے جو اس فتوے ”پیغام پاکستان“ کی صورت میں ہے۔سابق چیئرمین ہائیر ایجوکیشن کمیشن پاکستان ڈاکٹر مختار احمدنے سالانہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پیغام پاکستان قوم کی آواز بن رہی ہے۔ اس کو عمل میں لانے کی ضرورت ہے۔ بحیثیت قوم بہت مشکل دور سے گزر رہے ہیں۔ہم فرقوں میں بٹ چکے ہیں۔ نان ایشوز پر ایک دوسرے کو نشانہ بناتے ہیں۔ کچھ چیزیں مدارس کو بھی اپنانی چاہئیں تاکہ یہ دوریاں ختم ہوسکیں۔ اس حوالے سے یہ ضرور کہوں گا کہ آج اس ملک کو ایک قوم بنانے کی ضرورت ہے۔ جامعة الرشید اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرے۔ سینئر صحافی رحیم اللہ یوسف زئی نے کہا کہ آج کے اس پروگرام کو دیکھ کر میں یہ سمجھتا ہوں کہ گزشتہ سال دعوت کے باوجود شرکت نہ کرنا میری بدقسمتی تھی ۔ میں نے کئی مدارس دیکھے ہیں۔دینی مدارس کے نظام میں بہت ساری ایسی خوبیاں ہیں جو دیگر اداروں میں نہیں پائی جاتی۔ انہوں نے کہا کہ جامعة الرشید کی دینی اور قومی خدمات مثالی ہیں۔یہاں طلبہ کو نہ صرف تعلیم دی جاتی ہے بلکہ انہیں اچھا شہری بھی بنایا جاتا ہے ۔جامعة الرشید کا پیغام پاکستان میں اہم کردار رہا ہے ، میں رئیس الجامعہ کی خدمات کا اعترف کرتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ پیغام پاکستان ایک نہایت اہمیت کا حامل فتویٰ ہے لیکن مجھے حیرانی ہے کہ اتنے اہم فتوے کی تشہیر مناسب انداز سے نہیں ہوئی۔ اس میں ہماری بھی کوتاہی ہے۔ بین الاقوامی میڈیا میں اس کا تذکرہ مناسب انداز سے نہیں ہوا۔ اس فتوے کے ذریعے اس بات کو بھی غلط ثابت کیا گیا کہ پاکستان کے علماءتقسیم ہیں۔سابق آئی جی سندھ ڈاکٹر محمد شعیب سڈل نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج جامعة الرشید آکر حیرت ہوتی ہے کہ یہاں نہ صرف طلبہ کو نہ صرف دینی تعلیم دی جا رہی ہے بلکہ جدید علوم بھی پڑھائے جا رہے ہیں اکنامکس، سائنس، فنانس سمیت تمام عصری علوم پڑھائی جارہی ہیں جو خوش آئند ہے ۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کوئی نیا مسئلہ نہیں ہے ۔ہمارے یہاں سانحہ لال مسجد اور افغانستان پر امریکی حملے جیسے واقعات کے بعد اس میں اضافہ ہوا اور بدقسمتی یہ ہے کہ اس حوالے سے ہمارا قانون بہت کمزور ہے۔ ترکی کے معروف عالم دین الشیخ الدکتور احسن اوجاق نے اپنے خطاب میں کہا کہ افتراق اورتشدد اُمتِ مسلمہ کی تباہی اور موجودہ پستی کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ نبی کریمﷺ نے عصبیت کی سخت ترین مذمت بیان فرمائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب انگریزوں نے سلطنتِ عثمایہ کے خلاف سازشیں کیں تو علمائے دیوبند نے اپنے مدارس کی تعلیمی اور تدریسی سرگرمیاں معطل کردیں اور میدان میں آکر خلافتِ عثمانیہ کی حتیٰ الامکان امداد کی، چندے کیے۔ مولانا قاسم نانوتویؒ کی بیوہ نے اپنے زیورات چندے میں دیے۔ برصغیر کے ممتاز رہنما محمد علی جوہر کی والدہ نے اپنے بیٹے محمد علی جوہر کو نصیحت کی کہ خلاف پر جان پیش کرنے کی نوبت آئے تو اس سے بھی دریغ مت کرنا۔ پاکستان کے عوام اپنے علماءاور مشائخ کی عزت و تکریم اور ان کی قدر کریں۔ سابق وائس ایڈمرل عارف اللہ حسینی (ہلال امتیاز، تمغہ بسالت ) نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ طلبہ خوش نصیب ہیں جنہوں نے جامعة الرشید سے علم حاصل کیا۔ کیونکہ یہاں کے فارغ التحصیل طلبہ دین کے ساتھ ساتھ دنیا کے علوم سے بھی فائدہ حاصل کرسکتے ہیں۔ علم عمل کے بغیر وبال ہے۔ طلبہ اپنے حاصل کردہ علم پر عمل کریں اس صورت میں تقویٰ حاصل ہوجاتا ہے۔ پھر اللہ حکمت اور معرفت بھی عطا فرماتا ہے۔ ہم جس دور میں رہ رہے ہیں اس دور کے کچھ تقاضے ہیں۔ ہمارا استحصال کیا جاتا ہے۔ ہمیں اس سے آزادی حاصل کرنی ہے۔ اس نصب العین کے لیے کام کرنا ہے جس کے لیے یہ ملک حاصل کیا گیا تھا۔ ہم نے اپنی ایک منزل مقرر کی تھی۔ یہ توقع کرتے ہوئے ان شاءاللہ وہ منزل حاصل کریں گے۔صوبائی وزیر اطلاعات ، ٹرانسپورٹ اور افرادی قوت ناصر حسین شاہ نے کہا کہ جامعة الرشید کی علمی اور قومی خدمات کا اعتراف کرتے ہیں۔ اتحاد بین المسلمین کے حوالے سے جامعة الرشید نے قائدانہ کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان اور اُمتِ مسلمہ کے دشمن یہاں امن نہیں چاہتے لیکن جامعة الرشید کا اس حوالے سے نہایت احسن کردار ادا رہا ہے۔ ہمارا ملک مسلم دنیا کا پہلا ایٹمی ملک ہے۔ ہماری فوج دنیا کی بہترین افواج میں سے ہے۔ جب تک ہم ایک ہیں، پاکستان زندہ باد رہے گا۔ ہم سب جو یہاں موجود ہیں چاہتے ہیں کہ پاکستان مستحکم اور مضبوط رہے۔ جامعہ کی بہت خدمات ہیں۔ یہاں کے فضلاءمخلف شعبہ ہائے زندگی میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ سندھ حکومت جامعہ کو ہر سطح پر سپورٹ کرے گی۔معروف تاجر اور سابق چیئرمین سندھ بورڈ آف انوسمنٹ زبیر موتی والا نے کہا کہ جامعة الرشید کا یہ دسواں سالانہ تقریب ہے جس میں مجھے شرکت کا موقع مل رہا ہے۔ جو نظم و ضبط یہاں ہے کہیں اور نہیں ملے گا۔ یہ نطام جامعة الرشید کے نظام تعلیم کا ثمر ہے۔ پاکستان کے قیام کا مقصد یہ تھا کہ ہم اس ملک میں قرآن و سنت کے احکامات کے مطابق زندگی گزار سکیں۔ آج یہاں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم جدید علوم کے ساتھ ساتھ آخرت سنوارنے کے لیے دینی تعلیم بھی حاصل کرسکیں۔ معاشرے میں تبدیلی کی عملی شکل صرف اس صورت میں دیکھ سکتے ہیں جب ہم جامعة الرشید کے نطام تعلیم کو اپنائیں گے۔ جب ہمارے نوجوان دونوں طرز تعلیم کو اپنائیں گے تو معاشرے میں تبدیلی آئے گی۔ ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم جامعة الرشید جیسے اداروں کو ہر طرح سے سپورٹ کریں۔ جامعة الرشید کے مزید کیمپس بننے چاہئیں۔ جامعہ بنورےہ کے مہتمم مفتی محمد نعیم نے کہا کہ تمام مدارس جامعة الرشید کی کوششوں کو رول ماڈل بنائیں ،انہوں نے کہا کہ میرے تصور میں بھی نہیں تھا کہ جامعة الرشید تعلیمی میدان میں اتنا بڑا کام کر رہا ہے سب سے بڑا کام عصری اور دینی تعلےم کو یکجا کرنا ہے انہوں نے کہا کہ جامعة الرشید نے دینی و عصری تعلےم کو یکجا کر کے بہت بڑا کارنامہ سرانجام دیا ہے انہوں نے کہا کہ پہلے دینی اور عصری تعلےم والے دونوں ایک دوسرے سے دور بھاگتے تھے جامعة الرشید کی کاوشوں نے دونوں طبقوں کو یکجا کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ دینی اور عصری تعلےم کے الگ الگ ہونے کی روایت ختم ہو گئی ہے۔جامعة الرشید کا فارغ التحصےل طالب علم جج بھی بن سکتا ہے اور دیگر سرکاری اداروں مےں ملازمت کا بھی اہل ہو گیا ہے ۔واضح رہے کہ جامعة الرشید مختلف شعبہ جات سے امسال 359 طلبہ فارغ التحصیل ہوئے ہیں جن میں درس نظامی سے 64، کلیة الشریعہ سے 27، بی اے، ایم بی اے، بی ایس اور بی کام سے 60، تخصص فی الفقہ المعاملات المالیہ و العلوم الاداریہ سے 9، تخصص فی الافتاءسے 23، تخصص فی القرا ¿ت، تجوید کورس برائے حفاظ علماءاور تحفیظ القرآن کے 57، کلیة الدعوة سے 14، دراسات دینیہ سے 19، صحافت کورس، انگلش لینگویج کورس، عربک اینڈ انگلش لینگویج کورس برائے حفاظ، ٹیچر ٹریننگ کورس کے 86 طلبہ شامل ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں