1 111

گنجے پن کے مردو خواتین کے لیے خوش خبری!

انگلینڈ میں کی گئی ایک تازہ طبی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ گنجے پن کا علاج اس دوا کی مدد سے ممکن ہے جو اصل میں کمزور ہڈیوں کے علاج میں استعمال ہوتی ہے۔

’سائکلوسپورین اے‘ نامی دوا کمزور ہڈیوں کا علاج کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے لیکن اس کا انسانی جسم پر رد عمل زیادہ بال اگنے کی صورت میں سامنے آتا ہے۔

ماہرین نے گنجے پن کے علاج کے لیے Way-316606 نامی دوائی کا بھی استعمال کیا ہے۔ بنیادی طورپر یہ دوائی ’SFRP1‘ نامی پروٹین کو روکنے کے لیے استعمال ہوتی ہے جو ہڈیوں میں کمزوری کی ذمہ دار سمجھی جاتی ہے۔

یونیورسٹی آف مانچسٹر میں اس پراجیکٹ کے سربراہ ڈاکٹر ناتھن ہاکشاہ کہتے ہیں کہ ‘یہ ان لوگوں کے لیے بہت فائدہ مند ہو سکتی ہے جن کو گنجے پن کی بیماری ہے۔’

اس وقت مارکیٹ میں صرف دو دوائیں ایسی ہیں جو گنجے پن کے علاج کے لیے استعمال ہوتی ہیں جن میں سے منوکسڈیل دونوں مرد اور خواتین کے لیے جبکہ فناسٹرائڈ جو کہ صرف مردوں کے لیے استعمال ہوتی ہے۔

ان دونوں دواؤں کے منفی رد عمل ہوتے ہیں اور وہ مکمل طور پر موثر بھی نہیں ہوتی ہیں جس کی وجہ سے مریض اکثر اوقات ہئیر ٹرانسپلانٹ کروا لیتے ہیں۔

یہ تحقیق حیاتیات کے جریدے ‘پلوس بیالوجی’ میں شائع ہوئی اور اس کے لیے انسانی بالوں کے نمونے 40 سے زائد مرد مریضوں سے لیے گئے تھے جنھوں نے اپنے بالوں کے لیے ہیئر ٹرانسپلانٹ کرایا تھا۔

ڈاکٹر ہاکشاہ نے بتایا کہ اس کے لیے ابھی مزید تجربات کرنا ضروری ہیں تاکہ اس بات کی تصدیق ہو سکے کہ یہ علاج مریضوں کے لیے موثر اور محفوظ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں