3 75

نقیب قتل کیس: عدالت کا ملزمان پر 19 مئی کو فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ

کراچی: انسداد دہشت گردی کی عدالت نے نقیب اللہ قتل کیس میں ملزمان پر آئندہ سماعت پر فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

کراچی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں نقیب اللہ قتل کیس کی سماعت ہوئی جس سلسلے میں مرکزی ملزم راؤ انوار اور ڈی ایس پی قمر احمد سمیت دیگر ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا۔

پولیس راؤ انوار کو وی آئی پی پروٹوکول میں عدالت لائی اور بکتر بند سےکورٹ روم تک درجنوں اہلکاروں و افسران نے ملزم کو سیکیورٹی فراہم کی۔

سماعت کے دوران مدعی مقدمہ کے وکیل نے ملتان لائن میں راؤانوار کی رہائش گاہ کوسب جیل قرار دینے پر اعتراضات جمع کرائے جب کہ ملزمان کو مقدمے کی نقول فراہم کی گئیں جس پر انہوں نے نقول نامکمل ہونےکی نشاندہی کی۔

ملزمان کے اعتراض پر عدالت نے آئندہ سماعت پر ملزمان کے وکلاء کو مکمل دستاویزات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔

دوران سماعت عدالت نے ریمارکس دیئے کہ آئندہ سماعت پر ملزمان پر فرد جرم عائد کی جائے گی جب کہ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 19 مئی تک ملتوی کردی۔

پولیس چالان عدالت کو موصول

علاوزہ ازیں پولیس کی جانب سے راؤ انوار کے خلاف جعلی مقابلے کا چالان بھی عدالت کو موصول ہوگیا ہے جس میں راؤ انوار اور ڈی ایس پی قمر کو گرفتار ظاہرکیا گیا ہے۔

چالان کے مطابق ملزمان نےنقیب و دیگر کو جعلی پولیس مقابلے میں قتل کیا، دوران تفتیش یہ پولیس مقابلہ جعلی ثابت ہو چکا ہے۔

پولیس چالان میں مدعی مقدمہ اور ایس ایس پی سینٹرل سمیت 28 گواہوں کے نام شامل ہیں۔

تفتیشی افسر کی گفتگو

دوسری جانب کیس کے تفتیشی افسر ڈاکٹررضوان نے عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےکہاکہ راؤ انوار کو سب جیل میں رکھنے کا اختیارحکومت کے پاس ہے، ہم نے حکومت کے احکامات پر عمل درآمد کرایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تفتیشی افسر کی تبدیلی کا فیصلہ اعلیٰ حکام کریں گے، آج ملزمان کو مقدمے کی نقول فراہم کردی ہیں۔

ڈاکٹر رضوان نے امید ظاہر کی کہ مفرور ملزمان کو جلد گرفتار کرلیا جائے گا۔

کیس کا پس منظر

13 جنوری کو ملیر کے علاقے شاہ لطیف ٹاؤن میں سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار نے نوجوان نقیب اللہ محسود کو دیگر 3 افراد کے ہمراہ دہشت گرد قرار دے کر مقابلے میں مار دیا تھا۔

بعدازاں 27 سالہ نوجوان نقیب محسود کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر اس کی تصاویر اور فنکارانہ مصروفیات کے باعث سوشل میڈیا پر خوب لے دے ہوئی اور پاکستانی میڈیا نے بھی اسے ہاتھوں ہاتھ لیا۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اس معاملے پر آواز اٹھائی اور وزیر داخلہ سندھ کو انکوائری کا حکم دیا۔

تحقیقاتی کمیٹی کی جانب سے ابتدائی رپورٹ میں راؤ انوار کو معطل کرنے کی سفارش کے بعد انہیں عہدے سے ہٹا کر نام ای سی ایل میں شامل کردیا گیا، جبکہ چیف جسٹس آف پاکستان نے بھی اس معاملے کا ازخود نوٹس لیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں