ghuram-rashool 19

اولیا ء کرام کی کرامات پر امت کا اتفاق

ghulam-rashool
تحریر:غلام رسول شیخ
چیرمین البشری نیٹ ورک،فائونڈیشن
دنیا کے تمام مذاہب کی طرح دین ِ اسلام میں بھی ابتدا ء سے ہی خرق عادت کے متعدد واقعات موجود ہیں۔ خرقِ عادت در اصل وہ عمل ہے جس کا احاطہ انسان کی عقل کسی خاص زمانہ ومکان میں بظاہر نہیں کرپاتی ۔ اسی عمل کو دینی اصطلاح میں معجزے اور کرامت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا پر مخصوص ذہن رکھنے والے بعض حضرات کی تحریروں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ عناصر اللہ کے نیک اور متقی بندوں سے کسی خرق عادت عمل کے ظاہر ہونے کے یکسر منکر ہیں؛ جبکہ قرآن کریم کا ہر طالب علم ایسے متعدد واقعات سے واقف ہے جن کاذکر انبیا کرام اور متقی لوگوں کے حوالے سے اللہ تعالی نے بیان فرمایا ہے۔ اسی لیے قرآن وحدیث کی روشنی میں امت مسلمہ اس بات پر مکمل طور سے متفق ہے کہ اللہ تعالی جس طرح خرقِ عادت عمل (یعنی معجزہ)ابنیا کرام کے ذریعہ ظاہر کرتا ہے، وہیں خرقِ عادت عمل (یعنی کرامات )اپنے متقی پرہیزگار بندوں کے ذریعہ بھی ظاہر کرتا ہے۔
پاکستان کے علما کی طرح پوری دنیا کے علما خاص طور پر سعودی عرب کے علماء بھی اس بات پر متفق ہیں کہ اللہ کے حکم سے اللہ والوں کے ذریعہ ایسے خرقِ عادت اعمال ظاہر ہوتے ہیں جن کا احاطہ انسان کی عقل نہیں کرپاتی ۔ اس سلسلہ میں سعودی عرب کے علما ء کی رائے اور سعودی عرب کے مشہور عالم دین شیخ عبدالعزیز بن باز کا فتوی ان کی آفیشیل ویب سائٹ پر پڑھا اور سنا جاسکتا ہے۔ اس مختصر مضمون میں دلائل پر گفتگو نہیں کی جاسکتی، صرف ایک حدیث قدسی پیش ہے: حضور اکرمﷺنے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالی فرماتا ہے: جس نے میرے کسی ولی سے دشمنی کی اسے میری طرف سے اعلان جنگ ہے اور میرا بندہ میری طرف سے فرض کی ہوئی ا ن چیزوں سے جو مجھے پسند ہیں، میرا قرب زیادہ حاصل کرسکتا ہے، اور میرا بندہ نوافل کے ذریعہ مجھ سے قرب حاصل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں، جب میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں تومیں اس کا کان بن جاتاہوں جس سے وہ سنتا ہے، اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے، اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے، اس کا پائوں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے اور اگر وہ مجھ سے مانگتا ہے تو میں اسے دیتا ہوں اور اگر وہ میری پناہ کا طالب ہوتا ہے تو میں اسے پناہ دیتا ہوں۔ (صحیح بخاری ۔ کتاب الرقاق ۔ باب التواضع)ایسے بہت سے امور ہیں جہاں تک ہماری عقل کی رسائی نہیں اور ہم ان کو من وعن تسلیم کرلیتے ہیں۔ اسی طرح قرآن وحدیث کی روشنی میں امتِ مسلمہ کے ہر مسلک کا یہ عقیدہ ہے کہ اللہ تعالی کے حکم سے بعض ایسے کام یعنی کرامات اس کے برگزیدہ بندوں کے ذریعہ رونما ہوتی ہیں جنھیں انسانی عقل بہ ظاہر قبول نہیں کرتی تاہم عقیدہ کی بنیا د پر ان کا یقین کیا جاتاہے۔اس موضوع پر سعودی عرب کے جید علما ء کا موقف بہت سی کتب اورنیٹ پرموجود ہے جس میں وضاحت کے ساتھ مذکور ہے کہ انبیا کرام کے ذریعہ خرق عادت عمل کا ظہور معجزہ ہے ،جبکہ اولیا ء اللہ کے ذریعہ خرق عادت عمل کا واقع ہونا کرامت کہلاتا ہے اور اللہ تعالی بعض وجوہات کے پیش نظر خرق عادت بعض اعمال اللہ کے نیک بندوں کے ذریعہ ظاہر کرتا ہے اور یہ اہل سنت والجماعت کا عقیدہ ہے۔
http://www.alifta.net/fatawa/fatawaDetails.aspx?BookID=5&View=Page&PageNo=1&PageID=231
سعودی عرب کے مشہور ومعروف عالم دین شیخ عبد العزیز بن باز کا بھی یہی موقف ہے جو اس لنک پر پڑھا جاسکتا ہے:
http://www.binbaz.org.sa/noor/1354
موضوع بحث مسئلہ میں سعودی عرب کے علما ء کرام کے فتاوی کا خصوصی تذکرہ اس لیے کیا گیا کیونکہ لوگوں میں یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ علما ء سعودی عرب اولیا کرام سے واقع ہونے والی کرامات کو تسلیم نہیں کرتے ۔ سعودی علما ء کے موقف کا ایک سرسری مطالعہ اس غلط فہمی کا مکمل طور پر ازالہ کردیتا ہے۔ جہاں تک پاکستان کے علما ء کا تعلق ہے تو ان کا اس موضوع پر قطعا کوئی اختلاف نہیں کہ خرق عادت کسی عمل کا انبیا کرام سے اظہار معجزہ کہلاتاہے جبکہ اللہ کے دوسرے برگزیدہ بندوں سے ایسے کسی عمل کا رونما ہونا کرامات کہلاتا ہے۔اگر تاریخ کی کتابوں میں اللہ کے کچھ مخصوص نیک بندوں کے حوالے سے خرق عادت کوئی واقعہ منسوب ہے تو کوئی وجہ ایسی نہیں کہ ہم اللہ تعالی کے حکم سے واقع ہونے والی اس کرامت کے انکار کو اپنے ایمان کی بنیاد بنالیں۔ اب اگر کوئی شخص کسی برگزیدہ عالم دین سے ظاہر ہونے والے کسی خرق عادت عمل کو کرامت تسلیم کرتا ہے تو ایسے شخص کو قرآن وحدیث کی روشنی میں کس بنیاد پر گمراہ قرار دیا جاسکتا ہے؟ اگر کوئی اپنی بدعقلی میں ایسے شخص پر گمراہی کی تہمت لگاتا ہے تو یہ قرآن وسنت کی خلاف ورزی اور اس سے انحراف ہے۔
ابتداء اسلام سے ہی بے شمار علما ء کرام نے اولیا ء کرام کی کرامات کو قلمبند کیا ہے۔ اس ضمن میں علامہ ابن تیمیہ کا حوالہ اور ذکر مناسب ہوگا۔ بلاشبہ ان کی شخصیت کو عالم اسلام میں قدرومنزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ انھوں نے اپنی مشہور کتاب (الفرقان بین اولیاء الرحمن واولیا ء الشیطان )میں اولیا ء کرام کے ذریعہ رونما ہونے والی ایسی کرامات اور واقعات کا ذکر کیا ہے جنہیں بہ ظاہر عقل تسلیم نہیں کرتی ۔ اس کتاب میں تابعین کی کرامات کے متعدد واقعات موجود ہیں، جن میں سے چند واقعات کا ترجمہ پیش ہے۔ انھوں نے اپنی اسی کتاب میں یہ بھی ذکر کیا کہ صحابہ کرام ؓکے مقابلہ میں تابعین میں کرامات کے واقعات زیادہ ہوئے۔
یمن کے رہنے والے مشہور تابعی حضرت عبد اللہ بن ثوب (ابو مسلم الخولانی ) کوجھوٹی نبوت کا دعوی کرنے والے الاسود العنسی نے بلایا اور کہاکیا تم گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ انھوں نے کہا کہ میں تیری بات نہیں سن رہا۔ اس نے کہاتم گواہی دیتے ہو کہ محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ انھوں نے کہاجی ہاں، وہ اللہ کے رسول ہیںچنانچہ آگ دھکاکر انھیں اس میں ڈال دیا گیا۔ لوگوں نے دیکھا کہ وہ جلتی ہوئی آگ میں اطمینان سے نماز کی ادائیگی کررہے ہیں، اور وہ آگ ان کے لیے ٹھنڈی اور سلامتی کی جگہ بن گئی۔
مشہور تابعی حضرت عامر بن قیسؒ اپنی آستین میں دو ہزار درہم خیرات کیلئے لے کر نکلتے اور راستے میں ملنے جلنے والے ہر سائل کو گنے بغیر اس میں سے دیتے جاتے، پھر جب گھر واپس لوٹتے تو ان دراہم کی تعداد اور وزن میں کوئی کمی نہیں ہوتی۔ اسی طرح قافلہ کے پاس سے آپ کا گزر ہوا جس کو ایک شیر نے روک رکھا تھا۔ آپ نے شیر کے پاس جاکر اپنے کپڑے سے اس کامنہ پکڑا اور اس کی گردن پر اپنا پیر رکھ کر فرمایا تو اللہ کے کتوں میں سے ایک کتا ہے اور مجھے اللہ سے شرم آتی ہے کہ اس کے سوا کسی اور چیز سے ڈروں اور یوں قافلہ گزر گیا۔ انھوں نے اللہ سے دعا کی کہ ان کیلئے سردی میں وضو کرنا آسان ہوجائے چنانچہ اس کے بعد ان کے پاس جو بھی پانی پیش ہوتا اس سے بھاپ نکلتی رہتی۔
مشہور تابعی حضرت حسن بصری ؒ حجاج کی نظر سے ایسا اوجھل ہوئے کہ چھ مرتبہ لوگ ان کے پاس گئے اور انھیں نہ دیکھ سکے۔ ایک شخص آپ کو تکلیف دیتا تھا آپ نے اس کیلئے بددعا کی اور وہ فورا مرگیا۔
مشہور تابعی حضرت سعید بن مسیبؒ کے زمانہ میں حر کی طرف سے جب مدینہ منورہ محصور ہوا تو حضرت سعید بن المسیب ؒ نماز کے اوقات میں آپ ﷺکی قبر سے اذان کی آواز سنتے تھے حالانکہ مسجد بالکل خالی ہوتی تھی۔
مشہور تابعی حضرت اویس قرنی ؒ کی جب وفات ہوئی تو ان کے کپڑے کے اندر کفن ملے جو پہلے سے ان کے پاس نہیں تھے، اور ایک پتھریلی زمین میں ان کی قبر بھی کھدی ہوئی تیار ملی چنانچہ اسی کفن کے ساتھ اسی قبر میں دفن کردیا گیا۔
مشہور تابعی حضرت ابراہیم تیمیؒ ماہ دو ماہ بغیر کچھ کھائے رہ جاتے تھے۔ ایک مرتبہ اپنے گھر والوں کیلئے کھانا لانے کی غرض سے نکلے اور کچھ میسر نہ ہوسکا تو سرخ ریت کی ایک گٹھری باندھ لی۔ جب گھر والوں کے پاس پہنچے اور گھر والوں نے گٹھری کھولی تو دیکھا کہ سرخ گیہوں ہیں۔ وہ جب اس گیہوں کو بوتے تھے تو اس سے ایسی بالیاں نکلتی تھیں کہ جڑ سے لے کر شاخ تک دانوں سے لدی ہوتی تھیں۔
مشہور تابعی حضرت مطرف بن عبداللہ بن الشخیر ؒجب اپنے گھر میں داخل ہوتے تھے تو ان کے ساتھ ان کے گھر کے برتنوں سے بھی تسبیح کی آواز آتی تھی، وہ اور ان کے ایک ساتھی اکثر اندھیرے میں چل رہے ہوتے تو ان کے کوڑے کے سرے سے روشنی نکلتی تھی اور اندھیرا ختم ہوجاتا تھا۔
قبیلہ نخع کے ایک شخص کا گدھا راستہ میں مرگیا۔ اس شخص کے دیگر ساتھیوں نے کہا کہ چلو ہم تمہارا سامان اپنے درمیان تقسیم کرلیتے ہیں یعنی تمہارا سامان ہم اپنے گدھوں پر تھوڑا تھوڑا رکھ لیتے ہیں۔ ان صاحب نے کہا کہ مجھے تھوڑی مہلت دوچنانچہ انھوں نے اچھی طرف وضو کیا ، دو رکعات نماز پڑھی اور اللہ تعالی سے خوب دعا کی۔ اللہ تعالی نے ان کے گدھے کو زندہ کردیا، پھر انھوں نے اپنا ساز وسامان دوبارہ اپنے گدھے پر رکھ دیا۔
مشہور تابعی حضرت عمرو بن عتبہ ؒایک دن نماز پڑھ رہے تھے،گرمی سخت تھی، اچانک بادل سایہ کرنے لگا۔ جب وہ جہاد میں اپنے ساتھیوں کی سواریوں (جانوروں)کو چراتے تھے تو چیر پھاڑ کرنے والے جانور بھی سواریوں کی حفاظت کرتے تھے۔
مشہور تابعی حضرت عبد الواحد بن زید فالج ؒکے شکار ہوگئے۔ انھوں نے اللہ سے دعا کی کہ وضو کرتے وقت ان کے اعضا درست ہوجائیںچنانچہ وہ جب بھی وضو کرتے تھے ان کے اعضا درست ہوجاتے تھے۔ وضو سے فراغت کے بعد ان کے اعضا پہلے کی طرح مفلوج ہوجاتے تھے۔
مشہور تابعی حضرت عتبہ الغلام اللہؒ سے تین چیزوں کی دعا مانگتے تھے۔ اچھی آواز ، وافر مقدار میں آنسو اور بغیر کچھ کئے کھاناچنانچہ جب وہ تلاوت کرتے تھے خود بھی روتے اور دوسروں کو بھی رلاتے تھے۔ آنکھوں سے آنسو کافی دیر تک جاری رہتے ۔ جب اپنے گھر جاتے تو گھر میں کھانے کی چیزیں خود ہی مل جاتی تھیں او رانھیں معلوم بھی نہیں ہوتا کہ یہ چیزیں کہاں سے میسرہوئیں؟
یہ چند واقعات میں نے دنیا کے مشہور ومعروف عالم دین علامہ ابن تیمیہ کی کتاب (الفرقان بین اولیاء الرحمن واولیا الشیطان)سے نقل کئے ہیں۔ یہ بات واضح کرنا مناسب سمجھتا ہوں کہ شریعت اسلامیہ کے اصول ومآخذ قرآن وحدیث یا قرآن وحدیث کی روشنی میں اجماعِ امت اور قیاس ہی ہیں۔ بزرگوں کے واقعات سے کوئی حکم ثابت نہیں ہوتا لیکن نیک لوگوں کے واقعات سے بصیرت وعبرت ضرور حاصل ہوتی ہے۔ اس استفادہ کے پیش نظر ابتدا سے ہی بزرگوں کی کرامات اور ان کے واقعات تحریر کئے جاتے رہے ہیںلیکن کتابوں میں مذکور بعض کرامات اور واقعات کی بنیاد پر اہل سنت والجماعت کے کسی مکتب فکر یاعالم دین (خواہ وہ کسی بھی مسلک کا ہو)کی تضحیک کرنا یا تکفیر کرنا یا اس کو برا بھلا کہنا قطعا دین نہیں بلکہ قرآن وحدیث کی تعلیمات کی سراسر خلاف ورزی ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری بحث ومباحثہ سے ایسا یقین ہوتا ہے کہ بعض حضرات اصلاح کے نام پر ملتِ اسلامیہ میں تخریب اور فساد برپا کرنے پر مصر ہیں اور ان کی پوری کوشش یہ ہے کہ اصلاح مذہبیت کا فریب دے کر اپنے حلقے کو وسیع کریں۔ یہ بھی دیکھا جارہاہے کہ اس طرح کے لوگ کسی متقی عالم دین یا کسی مکتب فکر کی دینی واصلاحی خدمات کو ذکر کرنے کے بجائے ان پر کیچڑ اچھالنا اپنی انا کی تسکین اور اپنے تخریبی مشن کا حصہ سمجھتے ہیں۔ اس بات سے ہم سب ہی واقف ہیں کہ اللہ تعالی کی طرف سے صرف ابنیا ء کرام ہی معصومیت کے درجے پر فائز ہیں۔ بقیہ تمام لوگ غلطی کے مرتکب ہوسکتے ہیں۔ ہمارے علماء دین بھی بشر ہیں اور ان سے غلطی بھی اور کوتاہی ہوسکتی ہے ، لیکن اپنے ذاتی مفادت حاصل کرنے کیلئے علماء دین یا کسی مکتبہ فکر کی تضحیک یا سب وشتم ایک شیطانی عمل ہے۔ اختلاف رائے بالکل کیا جاسکتا ہے لیکن اپنے بارے میں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ علماء دین کی اِس تذلیل وتضحیک سے کس اسلامی مسلک کی یا کس سیاسی جماعت کی خدمت مقصود ہے؟
اپنی ذات کا محاسبہ کرنے کے ساتھ ہم اللہ تعالی کے حضور میں دست بہ دعا ہیں کہ مسلمانوں کو اخوت ومحبت کے اصول پر کاربند رہ کر دینِ اسلام پر چلنے اور دوسروں کو اس کی دعوت دینے والا بنائے۔ آمین۔
انسان کی عقل چونکہ محدود ہے اس لیے یہ ضروری نہیں کہ وہ اللہ تعالی کے حکم سے رونما ہونے والے معجزات وکرامات کا مکمل طور پر احاطہ کرلے، لہذا ایک سلیم الطبع دینی سمجھ کا تقاضا یہ ہے کہ ہمیں ایسے لوگوں کی شناخت کرنی چاہیے، جن کا واحد مشن دین اسلام کی تضحیک وتذلیل اور ملت اسلامیہ میں انتشار پیدا کرکے اسلام دشمن طاقتوں کی خدمت کرنا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں