4 20

شریف خاندان کیخلاف برطانیہ میں بھی گیرا تنگ

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشل برطانیہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کا ادارہ برطانوی حکام سے مطالبہ کرتا ہے کہ اسلام آباد احتساب عدالت کے فیصلے کی روشنی میں لندن میں مذکورہ پراپرٹی کی تحقیقات کرےبیان میں کہا گیا ہے کہ ’برطانوی حکومت اس کیس میں شامل لندن کی پراپرٹی کی تحقیقات کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ میاں نواز شریف اور ان کے اہلخانہ ان عالی شان جائیداد میں آرام کی زندگی نہ گزاریں جن کے بارے میں کہا گیا ہے کہ بدعنوانی کے ذریعے سے لی گئی ہے۔‘
میڈیا رپورٹس کے مطابق بدعنوانی کے خلاف کام کرنے والی تنظیم ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی ایڈووکیسی کی سربراہ ریچل ڈیوس نے مزید کہا ہے کہ ’ہم سمجھتے ہیں کہ برطانیہ شریف خاندان کی برطانیہ میں دیگر جائیدادوں کے بارے میں بھی تحقیقات کرے۔‘واضح رہے کہ اسلام آباد کی احتساب عدالت نے جمعہ کو ایون فیلڈ ریفرنس میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کو ایون فیلڈ کیس میں دس سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی ہے جبکہ انھیں 80 لاکھ پاؤنڈ جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔احتساب عدالت نے ایون فیلڈ کیس میں نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کو اثاثہ جات چھپانے میں نواز شریف کی مدد پر سات سال قید کی سنائی ہے جبکہ انھیں 20 لاکھ پاؤنڈ جرمانہ کیا گیا ہے۔مریم نواز کو کیلیبری فونٹ کے معاملے میں غلط بیانی پر شیڈول 2 کے تحت ایک برس قید کی سزا بھی سنائی گئی ہے۔کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو بھی ایک سال قید با مشقت کی سزا سنائی گئی ہے۔سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی بیٹی اور احتساب عدالت سے سزا یافتہ مریم نواز نے کہا ہے کہ وہ چاہتی ہیں کہ برطانوی حکومت ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کی تحقیقات کرے تاکہ ’دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے‘۔مریم نواز نے یہ بات لندن میں ہفتے کے روز میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں