3 21

سینکڑوں بے گناہوں کے قاتل راؤانوار کی ضمانت منظور

کراچی عدالت نے معطل ایس ایس پی راؤ انوار کی نقیب اللہ محسود کے ماورائے عدالت قتل کیس میں ضمانت منظور کرتے ہوئے انھیں 10 لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق انسداد دہشت گردی کی عدالت نے راؤ انوار کی درخواست ضمانت پر پانچ روز قبل فیصلہ محفوظ کرلیا تھا جو منگل کی صبح سنایا گیا، راؤ انوار ملیر چھاؤنی میں اپنے گھر میں قید تھے سکیورٹی خدشات کے باعث انھیں جیل کے بجائے گھر کو سب جیل قرار دیکر قید رکھا گیا تھا۔راؤ انوار کی ضمانت کے خلاف محسود قبائل کے لوگوں کی جانب سے سندھ ہائی کورٹ کے باہر کئی بار احتجاج بھی کیا گیا تھا۔نامہ نگار کے مطابق راؤ انوار نے کئی ماہ کی روپوشی کے بعد رواں سال 21 مارچ کو خود کو اسلام آباد میں سپریم کورٹ میں پیش کیا تھا، جہاں انھیں گرفتاری کے بعد کراچی پہنچایا گیا تھا، اس سے قبل انسداد دہشت گردی کی عدالت راؤ انوار کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کر چکی تھی، پولیس حکام راؤ انوار کو گرفتار کرنے میں ناکام رہے تھے۔سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار نے نوجوان نقیب اللہ محسود کو شاہ لطیف ٹاؤن کے علاقے عثمان خاصخیلی گوٹھ میں ایک مقابلے میں ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا اور ان کا تعلق تحریک طالبان سے بتایا تھا۔نقیب اللہ محسود کی بے گناہی پر سوشل میڈیا پر بحث اور محسود قبائل کے احتجاج کا عدالت نے نوٹس لیا اور راؤ انوار پر قتل کا مقدمہ درج کیا گیا۔نقیب اللہ محسود کے والد محمد خان محسود نے ایف آئی آر میں بتایا تھا کہ تین جنوری کو مبینہ طور پر راؤ انوار کے سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکار ان کے بیٹے نقیب اللہ اور دیگر دو افراد حضرت علی اور قاسم کو اٹھاکر لے گئے بعد میں چھ جنوری کی شب حضرت علی اور قاسم کو سپر ہائی وے پر چھوڑ دیا لیکن راؤ انوار نے نقیب اللہ کو قید رکھا اور اس کے موبائل فون بھی بند کردیا۔سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار نے نوجوان نقیب اللہ محسود کو شاہ لطیف ٹاؤن کے علاقے عثمان خاصخیلی گوٹھ میں ایک مقابلے میں ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا
ایف آئی آر کے مطابق نقیب اللہ کے رشتے دار اس کی تلاش کرتے رہے لیکن معلوم نہیں ہوا۔ ان کے والد نے ایف آئی آر میں کہا کہ 17 جنوری کو ٹی وی اور اخبارات سے انھیں معلوم ہوا کہ ان کے بیٹے کو راؤ انوار اور اس کے اہلکاروں نے جعلی مقابلے میں ہلاک کردیا۔ ایف آئی آر میں انسداد دہشت گردی کی بھی دفعات شامل کی گئی تھیں۔نقیب اللہ محسود کے اہلخانہ اور قریبی ساتھیوں نے اس دعوے کو مسترد کیا تھا اور کہا تھا کہ ان کا کسی شدت پسند تنظیم سے کوئی تعلق نہیں تھا اور وہ کراچی میں محنت مزدوری کرتے تھے اور ماڈلنگ کے شعبے میں دلچسپی رکھتے تھے۔ بعد میں نقیب اللہ محسود کی ہلاکت کی تحقیقات کرنے والی کمیٹی کے سربراہ ایڈیشنل آئی جی ثنا اللہ عباسی نے بھی قرار دیا تھا کہ انھیں ’جعلی‘ پولیس مقابلے میں ہلاک کیا گیا ہے۔سہراب گوٹھ کے علاقے میں کئی روز جاری احتجاج کے دوران ہی مشتون تحفظ موومنٹ نے جنم لیا، اسی احتجاج کو پہلی بار منظور پشتین نے خطاب کیا اور لاپتہ پشتون نوجوانوں کی بازیابی کی تحریک کا آغاز کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں