6 62

الیکشن میں فوج کا معاونت فراہم کرنا ہے، آئی ایس پی آر

پاک فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے منگل کو راولپنڈی میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ انتخابات کے دوران افواج پاکستان کا کام صرف اور صرف الیکشن کمیشن کو معاونت فراہم کرنا ہے۔ انھوں نہ کہا کہ فوج کے لیے جو حکم جاری ہوتا ہے وہ سب کے لیے ہوتا ہے اور جو حکم جاری ہوا ہے اس کا مطلب یہی ہے کہ ہم نے غیر جانبدار اور غیر سیاسی ہو کر انتخابات کے دن الیکشن کمیشن کی مدد کرنی ہے۔
انھوں نے کہا کہ انتخابات میں پولنگ سے تین دن پہلے سکیورٹی کے تمام امور مکمل ہو جائیں گے اور ہر پولنگ سٹیشن پر فوج، رینجرز اور پولیس کے اہلکار موجود ہوں گے۔میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ حساس پولنگ سٹیشن میں دو فوجی اندر اور دو ہی باہر ہوں گے جبکہ غیر حساس پولنگ سٹیشن میں فوجی کے ساتھ ساتھ پولیس بھی موجود ہو گی۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق 25 جولائی کو ہونے والے انتخابات کے لیے فوج کی تعیناتی پہلی بار نہیں ہے۔ افواج پاکستان الیکشن کمیشن کے حکم پر پہلے بھی یہ کام انجام دیتی رہی ہے۔انھوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے ہمیں چھ کام دیے ہیں۔ ’اس میں سب سے پہلے ملک میں امن و امان کی صورت حال کو برقرار رکھنا، دوسرا بیلٹ پیپرز کی چھپائی کے دوران پرنٹنگ پریسز کی سکیورٹی کو یقینی بنانا، تیسرا انتخابی سامان کی ترسیل، چوتھا پولنگ سٹاف اور ریٹرننگ افسران کی سکیورٹی، پانچواں پولنگ کے روز پولنگ سٹیشن کے اندر اور باہر اپنے نمائندے تعینات کرنا اور پولنگ کا عمل مکمل ہو جانے کے بعد تمام بیلٹ بکسوں کو واپس الیکشن کمیشن آف پاکستان پہنچانا ہے۔‘میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا عوام کے ووٹوں سے جو بھی وزیر اعظم آئے گا وہ قبول ہو گا اور عوام جسے چاہیں اسے منتخب کریں۔ افواج پاکستان کی کوئی سیاسی جماعت یا سیاسی وابستگی نہیں ہے۔اس موقع پر مختلف سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا انھوں نے کہا کہ انتخابی نشان الاٹ کرنا افواج پاکستان کا نہیں بلکہ الیکشن کمیشن کا کام ہے۔چوہدری نثار اور دیگر رہنماؤں کو جیپ کا نشان الاٹ کرنے پر انھوں نے کہا کہ یہ جیپ ہماری نہیں ہے میڈیا ہر چیز کو شک کی نظر سے نہ دیکھے۔
ایک اور سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ عوام جسے ووٹ دیتی ہے اسے اس کے مطابق گنا جائے، ہمارا کام صرف معاونت فراہم ہو گا اور ہم سے زیادہ میڈیا صاف شفاف انتخابات کو فروغ دے سکتا ہے۔سائبر حملوں کے معاملے پر میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ خطرہ سب کو ہوتا ہے لیکن اس کے تحفظ پر کام کیا جا رہا اور اس میں بہتری کی ضرورت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کیپٹن (ریٹائرڈ) صفدر کو سول عدالت سے سزا ہوئی ہے جب وقت آئے گا تو آرمی کے قواعد و ضوابط رولز کے تحت ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔انھوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کو ہم کنٹرول نہیں کر سکتے اور کسی کو ڈنڈے کے زور پر کوئی کام نہیں کرا سکتے لیکن اگر کوئی ایسا کام ہو جو ملک کے خلاف ہو تو اسے نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں