asif-zardari 50

آصف زرداری اور فریال تالپور کو شوکاز نوٹسز جاری

پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت نے اس صورتحال پر لاہور میں اپنا ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے جس میں بلاول بھٹو بھی شرکت کر رہے ہیںپاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ کو شوکاز نوٹس جاری کیا ہے جس میں ان سے کہا گیا ہے کہ وہ ایک جعلی اکاؤنٹ سے ڈیڑھ کروڑ روپے کی رقم زرداری گروپ کے اکاؤنٹ میں منتقلی کے بارے میں بتائیں۔کراچی میں 29 جعلی اکاؤنٹس کی تحقیقات کرنے والے تفتیشی افسر نے سابق صدر آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ کو نوٹس میں آگاہ کیا ہے کہ اے ون انٹرنیشنل کے اکاؤنٹ سے سمٹ بینک میں زرداری گروپ کے اکاؤنٹ میں ڈیڑھ کروڑ روپے کی منتقلی کی گئی ہے۔تفتیشی افسر نے آصف زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور کو آگاہ کیا کہ وہ بدھ کو دوپہر ایک بجے اپنے اوریجنل شناختی کارڈ سمیت اپنا بیان ریکارڈ کرائیں اور اس رقم کی منتقلی کا جواز بیان کریں۔نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق اس نوٹس میں متنبہ کیا گیا ہے کہ اگر وہ جان بوجھ کر پیش نہیں ہوتے تو ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔
ایف آئی اے حکام نے تصدیق کی ہے کہ آصف علی زرداری کی رہائش گاہ بلاول ہاؤس پر کسی نے نوٹس وصول نہیں کیا جس کے بعد اسے گیٹ پر ہی چسپاں کر دیا گیا جبکہ فریال تالپور کے مینیجر نے نوٹس وصول کیا ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل سپریم کورٹ نے 29 جعلی اکاؤنٹس کے معاملے کا ازخود نوٹس لیا تھا، جس میں آصف علی زرداری اور فریال تالپور سمیت ایک درجن افراد کے بیرون ملک سفر کرنے پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔ اس مقدمے میں سمٹ بینک کے وائس چیئرمین حسین لوائی اور ان کے ساتھی طلحہ رضا پہلے ہی گرفتار ہیں۔وفاقی تحقیقاتی ادارے نے اپنی ایف آئی آر میں بتایا ہے کہ 29 مشکوک اکاؤنٹس کی تحقیقات کے دوران یہ بات سامنےآئی کہ ایک اکاؤنٹ جو اے ون انٹرنیشل کے نام سے موجود تھا جس کا مالک طارق سلطان نامی شخص کو ظاہر کیا گیا تھا، اسے منی لانڈرنگ کے لیے استعمال کیا گیا۔
آصف زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور کو بدھ کو دوپہر ایک بجے اپنے اوریجنل شناختی کارڈ سمیت اپنا بیان ریکارڈ کرانے کا حکم دیا گیا ہے
طارق سلطان نے اس اکاؤنٹ سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔ایف آئی اے نے اپنی تحقیقات میں چار ارب 14 کروڑ کی مزید مشکوک منتقلی کی نشاندھی کی ہے، جس سے مستفید ہونے والوں، متحدہ عرب امارات کے نصیر عبداللہ لوطہ گروپ کے سربراہ، آصف علی زرداری اور ان کی بہن کا گروپ اور آصف زرداری کے قریبی دوست انور مجید شامل ہیں۔ایف آئی اے کی جانب سے دائر کی گئی ایف آئی آر کے مطابق نصیر عبداللہ لوطہ نے چیئرمین سمٹ بینک کو 2 ارب 49 کروڑ، انصاری شگر ملز جس کے مالک انور مجید اور علی کمال مجید ہیں کو سات کروڑ 37 لاکھ، اومنی پولیمرز پیکجز کے عبدالغنی مجید اور کمال مجید کو 50 لاکھ، پاک اتھنول کے مصطفیٰ ذوالقرنین مجید اور عبدالغنی مجید کو ایک کروڑ 50 لاکھ، چمبڑ شگر ملز کے مالک انور مجید اور نمر مجید کو 20 کروڑ، ایگرو فارمز ٹھٹہ کے مالک انور مجید اور نازلی مجید کو 57 لاکھ، زرداری گروپ جس کے مالک آصف علی زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور اور دیگر ہیں کو ایک کروڑ، پارتھی نون کے قابل خان نوری کو پانچ لاکھ، ایون انٹرنیشنل کو پانچ لاکھ 76 ہزار، لکی انٹرنیشنل کو دو کروڑ 72 لاکھ، لاجسٹک ٹریڈنگ کو 14 کروڑ 50 لاکھ، رائل انٹرنیشنل کو 28 کروڑ اور عمیر ایسوسی ایٹس کو 80 کروڑ کی منتقلی ہوئی۔پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت نے اس صورتحال پر لاہور میں اپنا ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے جس میں بلاول بھٹو بھی شرکت کر رہے ہیں۔ بلاول اپنی انتخابی مہم مختصر کر کے پیر کی شام لاہور پہنچ چکے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں